پٹنہ،بیگوسرائے،30/جولائی(ایس او نیوز/ایجنسی) ان دنوں بہار میں اساتذہ کیلئے ایک سے بڑھ کر ایک فرمان جاری کیا جا رہا ہے۔ تازہ ترین معاملہ بہار کے بیگوسرائے ضلع سے سامنے آیا ہے، جہاں بیگوسرائے کے ڈی ای او نے کے کے پاٹھک کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے اساتذہ کیلئے ایک عجیب و غریب حکم نامہ جاری کیا ہے۔ دراصل بیگوسرائے ڈی ای او نے حکم جاری کیا ہے کہ ضلع کے اسکولوں میں اگر اساتذہ داڑھی کے ساتھ اسکول آتے ہیں تو ان کی تنخواہوں کو کاٹ دیا جائے گا۔ ساتھ ہی اساتذہ کو جینز اور ٹی شرٹ پہن کر اسکول آنے پر روک رہے گی۔
ڈی ای او کے حکم کے مطابق اگر اساتذہ نے داڑھی بڑھائی اور سکول انسپکشن کے دوران جینز ٹی شرٹ میں نظر آئے تو ایک دن کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ڈی ای او نے خواتین اساتذہ کے کپڑوں کے حوالے سے بھی حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔ ڈی ای او کے حکم کے مطابق ضلع میں خواتین کے بھڑکیلے اور چمکدار لباس پہن کر اسکول آنے پر پابندی ہو گی۔ خواتین اساتذہ کو صرف ہندوستانی لباس پہن کر اسکول آنے کا حکم دیا گیا تھا۔
دوسری طرف بیگوسرائے ڈی ای او کے اس حکم پر اساتذہ یونین ناراض ہے۔ ٹیچرز یونین نے اس حکم کو تغلقی فرمان قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی اس نئے حکم کے بعد اساتذہ نے حکومت سے یونیفارم الاؤنس کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹیچرس یونین نے الزام عائد کیا ہے کہ عہدیداروں نے عجیب و غریب خط جاری کئے ہیں۔ ساتھ ہی بیگوسرائے ڈی ای او کو حکم واپس لینے کی وارننگ دی گئی ہے۔
اساتذہ یونین نے کہا کہ بعض اوقات داڑھی بڑھانا مردوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ ہندو مذہب میں مرنے کے بعد 10 دن تک داڑھی نہیں بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی خط کو لے کر مسلم اساتذہ میں ناراضگی بڑھ گئی ہے۔ اگر یہ حکم واپس نہ لیا گیا تو ٹیچر یونینز نے سڑک پر اترنے کی بات کہی ہے۔واضح رہے کہ بیگوسرائے ڈی ای او کے حکم کی کاپی سوشیل میڈیا پر کافی وائرل ہو رہی ہے اور لوگ اس نئے آرڈر پر اپنے اپنے انداز میں رائے بھی دے رہے ہیں۔